زویا شیخ اردو ادب کا ایک ابھرتا ہوا اور روشن نام ہیں۔ اپنی مسلسل محنت، خلوص اور تخلیقی صلاحیتوں کے باعث انہوں نے مختصر عرصے میں اردو شاعری میں ایک منفرد مقام حاصل کیا ہے، جو ہر صاحبِ قلم کی آرزو ہوتا ہے۔
ان کی شاعری میں عصری مسائل، معاشرتی ناہمواریوں، انسانی احساسات اور بالخصوص خواتین کے دکھ، درد نہایت وسعت اور گہرائی کے ساتھ نمایاں ہوتے ہیں۔ زویا شیخ کو صرف غزل ہی نہیں بلکہ نظم پر بھی یکساں عبور حاصل ہے، اور ان کی تخلیقات قاری کے دل پر گہرا اثر چھوڑتی ہیں۔
ان کا کلام غمِ جاناں اور غمِ دوراں سے گزرنے والے ہر حساس دل کو اپنی ہی داستان محسوس ہوتا ہے۔ ان کا پہلا شعری مجموعہ "کوئی" منظرِ عام پر آ چکا ہے، جسے ادبی حلقوں میں پذیرائی حاصل ہوئی۔
زویا شیخ تقریباً آٹھ برس سے شاعری کے سفر سے وابستہ ہیں۔ وہ مشاعروں کی چکاچوند سے دور رہ کر اپنی نجی زندگی میں مگن رہتے ہوئے خاموشی سے تخلیقی سفر جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان کی اصل پہچان ان کا قلم اور ان کی فکر ہے، اور وہ لکھنے کو ہی اپنی سب سے بڑی ترجیح سمجھتی ہیں۔