چاہیے مجھ کو ترا ساتھ اسی ڈھیل کے ساتھ

(زویا شیخ)

چاہیے مجھ کو ترا ساتھ اسی ڈھیل کے ساتھ
جیسے اتری تھی مدد رب کی، ابابیل کے ساتھ

تجھ سے ملنا ہے تو ملنے کے لیے ملنا ہے
کام کرنا ہے تو پھر کام کی تکمیل کے ساتھ

تُو وہ جگنو ہے جو لوگو کو بہت بھائے گا
میں وہ پروانہ جو جل جائے گا قندیل کے ساتھ

ایک دو گھونٹ مری پیاس بجھائیں گے نہیں
غم ہی دینا ہے تو پھر دیجئے ترسیل کے ساتھ

مسئلہ میرا ہے میں کیسے اتاروں گی ردا
وہ تو تصویر ہے لگ جائے گا ہر کیل کے ساتھ

مجھ کو بھی اس سے کوئی خاص توقع نہیں دوست
اور سمندر کا گزارا بھی نہیں جھیل کے ساتھ

زویا اک عمر گنوائی ہے تو یہ راز کھلا
عزتِ نفس "بڑی" ہوتی ہے تذلیل کے ساتھ

Scroll to Top
Call Now Button