الزام کبھی یار پہ رکھا نہیں کرتے

(زویا شیخ)

الزام کبھی یار پہ رکھا نہیں کرتے
سردار کا سر دار پہ رکھا نہیں کرتے

جاتے ہوئے لوگوں کو کبھی جانے نہیں دو
سر غصے میں تلوار پہ رکھا نہیں کرتے

حق گوئی کا مطلب ہے کہ حق گوئی مکمل
اقرار کو انکار پہ رکھا نہیں کرتے

کچھ ڈھنگ تجارت کا بھی ہوتا ہے مرے دوست
ہر تیر خریدار پہ رکھا نہیں کرتے

گر بات شریعت کی نہیں ہوتی تو کہتے
دل ایک ہے سو چار پہ رکھا نہیں کرتے

ان سے کہا پہلو میں نہیں آئے، تو بولے
ہم پھول،، نظر خار پہ رکھا نہیں کرتے

یہ ظرف فقط مرد کا ہی وصف ہے زویا
یہ الجھنیں گھر بار پہ رکھا نہیں کرتے

Scroll to Top
Call Now Button