میری دعا ہے ساتھ تو یوں مستقل رہے

(زویا شیخ)

میری دعا ہے ساتھ تو یوں مستقل رہے
جیسے کسی کے جسم پہ پیوست تِل رہے

رونے لگوں تو ماں کی نظر خون خون ہو
ہنسنے لگوں تو وحشتِ زنداں مخل رہے

وہ دیکھ کر مجھے یوں گزر جاتا ہے تو کیا
سورج کے آگے چاند بھی تو مندمل رہے

تسخیر کر رہے ہیں بہم کائناتِ عشق
کرکے بہانہ قلب کا دو جسم مل رہے

اس کے علاوہ خواہشِ دنیا نہیں کوئی
یا میں رہوں کہ تُو رہے یا ایک دل رہے

وہ رشتے جن کو خون کا دیتے ہیں نام لوگ
زویا ہمارے واسطے وہ بھی جٹِل رہے

Scroll to Top
Call Now Button