نہ کوئی صید، نہ صیاد ہے مرے دل میں

(احمد شهریار)

نہ کوئی صید، نہ صیاد ہے مرے دل میں
جو قید میں ہے، وہ آزاد ہے مرے دل میں

۔ یہ سنگ و خشت کی دنیا نہیں مری دنیا
کہ میرا ملک خداداد ہے مرے دل میں

۔ نہ لوگ مرتے ہیں اس کے، نہ بوڑھے ہوتے ہیں
یہ ایک شہر جو آباد ہے مرے دل میں

۔ میں مستطیل کو بھی دائرہ بناتا ہوں
غضب کا عالم ایجاد ہے مرے دل میں

۔ تمام عمر مرے روبرو رکھے گا تجھے
یہ مرحلہ جو ترے بعد ہے مرے دل میں

Scroll to Top
Call Now Button