مری دنیا مرے لفظوں میں تابندہ رہے گی

(احمد شهریار)

مری دنیا مرے لفظوں میں تابندہ رہے گی
میں مرجاؤں گا اور میری غزل زندہ رہے گی

مرے کمرے میں تنہائی کو رہنا ہے بہرحال
چلو اب تک نہیں رہتی تو آئندہ رہے گی

یہ دنیا ہے یہاں ہر خیر سے مشروط ہے شر
کہانی میں جہاں حمزہ رہا، ہندہ رہے گی

نظرانداز مت کر اے عظیم الشان سورج!
زمیں پر یہ کرن تیری نمائندہ رہے گی

ہماری خاک اڑ جائے گی چاروں سمت لیکن
ہمارے پاؤں کی زنجیر شرمندہ رہے گی!

یہ مانا تو بہت اچھا تھا لیکن شہریارا
رعایا تجھ کو تب روئے گی جب زندہ رہے گی

Scroll to Top
Call Now Button