گماں یہ ہے کہ مشیت نے سوچ کر رکھا

(مدبر آسان)

گماں یہ ہے کہ مشیت نے سوچ کر رکھا
کسی پہ خبط کسی کے بدن پہ سر رکھا

مجھے یہ ڈر تھا کہ آنسو نہ خشک ہو جائیں
سو رات آنکھ کو ہنس ہنس کے میں نے تر رکھا

میں چل رہا تھا سمندر پہ بے نیازی سے
کہ لاشعور نے اک جست پر بھنور رکھا

ترا غرور بھلا چیز کیا کہ ہم نے تو
خود اپنے نفس کو جوتے کی نوک پر رکھا

تمہارے ناز اٹھانے سبک سبک پہنچا
جو اپنے ذہن کا تھا بوجھ اپنے گھر رکھا

غزل چشیدہ ہیں ہم، یہ ہمارا شیوہ ہے
ادھوری بات نہ کی، قصہ مختصر رکھا

Scroll to Top
Call Now Button