کسی کی نیم نگاہی کا ماجرا کہہ دوں

(مدبر آسان)

کسی کی نیم نگاہی کا ماجرا کہہ دوں
ذرا ذرا سا چھپا لوں ذرا ذرا کہہ دوں

گزر ہی جائے گا، یہ بھی بس ایک مرحلہ ہے
میں جانتا ہوں، مگر کیسے برملا کہہ دوں

وہ دل نشیں بہت دل نشیں سہی لیکن
میں چاہتا ہوں کبھی اس کو دل ربا کہہ دوں

تذبذب اس میں کروں اپنی بات سے پیدا
پھر اپنے دل میں اسے خود گریز پا کہہ دوں

جدا تھا طرزِ محبت ترا مگر اب تو
یہ حال ہے کہ اشارے کو التجا کہہ دوں

زماں وہ جبر کہ میں صبر کو فریب کہوں
امید کو میں زمانے میں ناروا کہہ دوں

شبِ فراق میں عقدے فراق کے کھولوں
تمہارے ہجر کو دل خواہ تجْرِبہ کہہ دوں

تو رو بہ رو جو کبھی ہو اے آرزوئے نگہ
میں بے دریغ ترے رخ کو آئینہ کہہ دوں

کہ میں ہوں یونسِ بے نینوا، بہا لے مجھے
تو موجِ آب تجھے موجۂ صبا کہہ دوں

ٹھہر تو جاوں مگر کیا کروں طبیعت کا
کہ آبلے کو بھی دیکھوں تو بلبلہ کہہ دوں

ٹپک رہی ہے لب و لہجے سے شدید طلب
تو صاف کیوں نہیں کہتا، تجھے خدا کہہ دوں

Scroll to Top
Call Now Button