تم تھیں؟ جس نے دولتِ غم سے دل کو بہرہ مند کیا

(مدبر آسان)

تم تھیں؟ جس نے دولتِ غم سے دل کو بہرہ مند کیا
شاد رہو آباد رہو تم، تم نے ہمیں خورسند کیا

پونجی میں تھا ایک خیال اور ایک سوال سو کرتا کیا
اس کا میں نے برج بنایا اِس کو میں نے کمند کیا

نوبت یہ آ پہنچی ہے اب فرق بتانا پڑتا ہے
کس نے کسا تھا آوازہ اور کس نے نعرہ بلند کیا

شیشوں پر جب کورا جمتے دیکھا میں نے رات گئے
وحشت کو سینے میں رکھا اور جیکٹ کو بند کیا

پاوں میں چکر ہوتا تھا اور خواب افق کے آتے تھے
مٹی نے زنجیر اگا کر آنکھوں کو پابند کیا

آدھے پاگل آدھے دانا کس مشکل میں رہتے ہیں
رات گریباں چاک کیا پھر صبح تلک پیوند کیا

باغوں میں میں نے اک باغ اور اس نے باغ میں پھول چنا
اس نے خوش بو اور خوش بو میں میں نے اس کو پسند کیا

Scroll to Top
Call Now Button