نہ مشورہ نہ کیا استخارہ شادی کی

(زویا شیخ)

نہ مشورہ نہ کیا استخارہ شادی کی
رضائے باپ تھی سو دل کو مارا شادی کی

کسی کے جسم کو ہجرت کے زخم ہدیہ کئے
کسی کی جان کا صدقہ اتارا شادی کی

پہن لی بچھیہ کسی اجنبی کی لائ ہوئ
سکون پاؤں کی انگلی پہ وارا شادی کی

ہماری زیست کی پہلی بہار ماں کی گود
ہماری زیست کا پہلا خسارہ شادی کی

رواج تھا سو نبھایا گیا وثوق کے ساتھ
اکیلے لوگ رہے کم ،،،زیادہ شادی کی

کہا تھا باپ سے عزت رکھوں گی تیری میں
سو ہم نے ہنس کے نبھایا یہ وعدہ شادی کی

اسے خبر ہی نہیں تھی مزاج کیسا ہے
لگا تھا ماں کو مقدر سنوارا، شادی کی

اکیلے پن کو مَرض ہی سمجھ لیا سب نے
کہ جب بھی جو بھی ہوا بے سہارا شادی کی

یہاں تو تجربہ پہلا ہی زویا مار گیا
نہ جانے کیسے کسی نے دوبارہ شادی کی

Scroll to Top
Call Now Button