Skip to content
Home
About Tahbib
Tahbib Global Circle
Media
OUR SPONSORS
E-Book
E-Book Library
Explore
Founder’s Vision
Our Team
Magzine Showcase
Tahbib Anthem
TariqFaizi.com
Tahbib.ae
Home
About Tahbib
Tahbib Global Circle
Media
OUR SPONSORS
E-Book
E-Book Library
Explore
Founder’s Vision
Our Team
Magzine Showcase
Tahbib Anthem
TariqFaizi.com
Tahbib.ae
چاہیے مجھ کو ترا ساتھ اسی ڈھیل کے ساتھ
(زویا شیخ)
چاہیے مجھ کو ترا ساتھ اسی ڈھیل کے ساتھ
جیسے اتری تھی مدد رب کی، ابابیل کے ساتھ
تجھ سے ملنا ہے تو ملنے کے لیے ملنا ہے
کام کرنا ہے تو پھر کام کی تکمیل کے ساتھ
تُو وہ جگنو ہے جو لوگو کو بہت بھائے گا
میں وہ پروانہ جو جل جائے گا قندیل کے ساتھ
ایک دو گھونٹ مری پیاس بجھائیں گے نہیں
غم ہی دینا ہے تو پھر دیجئے ترسیل کے ساتھ
مسئلہ میرا ہے میں کیسے اتاروں گی ردا
وہ تو تصویر ہے لگ جائے گا ہر کیل کے ساتھ
مجھ کو بھی اس سے کوئی خاص توقع نہیں دوست
اور سمندر کا گزارا بھی نہیں جھیل کے ساتھ
زویا اک عمر گنوائی ہے تو یہ راز کھلا
عزتِ نفس "بڑی" ہوتی ہے تذلیل کے ساتھ
Previous : میری دعا ہے ساتھ تو یوں مستقل رہے
Scroll to Top
Call Now Button