ہم زندہ صفت لوگ ہیں زندان طبیعت

(زویا شیخ)

ہم زندہ صفت لوگ ہیں زندان طبیعت
انسان کی فطرت ہے پریشان طبیعت

ہر آشنا چہرے سے ہر اک آشنا دل سے
انجان بنا دیتی ہے بے جان طبیعت

انگور کا شربت میرے سرہانے پڑا ہے
پینے نہیں دیتی ہے یہ ایمان طبیعت

کھاتی ہے ہوس جسم کے ہر عضو کی راحت
رہتا نہیں انسان بھی انسان طبیعت

ہم. تم سے بھلا کیسے گلے کھُل کے ملیں گے
ہم اپنے بدن میں بھی ہیں مہمان طبیعت

یہ بات ندامت کی طرف لے گئ مجھ کو
رحمان کا بندہ نہیں رحمان طبیعت

بس اس لئے زویا کا ہے محبوب سے جھگڑا
وہ نوح طبیعت ہے میں کنعان طبیعت

Scroll to Top
Call Now Button