نشّۂ انبساط سے، درد کا رس کشید کر

(مدبر آسان)

نشّۂ انبساط سے، درد کا رس کشید کر
ساغرِ زندگی پٹخ، اور عبث کشید کر

سوزشِ زخمِ دل سے بھر مستیِ جسم و جاں کا جام
اپنے گلے کے طوق سے تارِ نفَس کشید کر

چھوڑ دے سجدۂ ریا کوئے بتاں کو آزما
پچھلے برس کی منفعت اب کے برس کشید کر

رقص کناں خیال کو، خطِّ ازل ابد پہ ڈال یہ
پاوں میں خار آئے تو پاوں سے خس کشید کر

قوسِ قزح سوا بنا، خالِ دہن سے یار کے
رنگ کشید کر میاں، آٹھ سے دس کشید کر

رسمِ سخن کے زاویے سارے الٹ پلٹ کے دیکھ
دار سے در کشید کر، پر سے قفس کشید کر

حسن سے دل لگی کی بات، مسئلہ ہائے کائنات
خوب مبالغے سے لکھ، خط کو زبس کشید کر

شوق کو بے ادا نہ کر، اتنا بھی پارسا نہ کر
عشق کے انہماک سے کچھ تو ہوس کشید کر

Scroll to Top
Call Now Button