دلیلیں سن چکا ساری، مرا اظہار باقی ہے

(احمد شهریار)

دلیلیں سن چکا ساری، مرا اظہار باقی ہے
مکمل ہوچکی ہے گفتگو، انکار باقی ہے

پھر اس کے بعد سب رستہ ہے اور ہر گام ہے منزل
ہمارے در کے آگے آخری دیوار باقی ہے

گواہی دے رہے ہیں لوگ میری بے گناہی کی
رعایا کب کی قائل ہوچکی، دربار باقی ہے

ابھی اس جنگ میں تسلیم کی نوبت نہیں آئی
ابھی بازو سلامت ہیں، ابھی تلوار باقی ہے

کہاں ہو تم اے میرے ذہن کی روشن تریں تصویر
دم رخصت تمہارا آخری دیدار باقی یے

سو چل اے شہریار اب تخت سے مقتل کی جانب چل
ترا دربار ویراں ہوچکا ہے، دار باقی ہے

Scroll to Top
Call Now Button