عنقا ہوں مرا ذکر یہاں عام بہت ہے

(احمد شهریار)

عنقا ہوں مرا ذکر یہاں عام بہت ہے
گمنام سہی، پھر بھی مرا نام بہت ہے

حیراں ہوں اڑاوں میں کہاں خاک رہ دوست
اس سر پہ غبار سحر و شام بہت ہے

صحرا کی صدا آئی تو لبیک کہوں گا
ہرچند ترے شہر میں آرام بہت ہے

ساقی سے غرض اور نہ میخانے سے مطلب
پیتا ہوں جو میں تلخی ایام بہت ہے

جینے کی تمنا تو نہیں اے ملک الموت
پر آج نہیں، آج مجھے کام بہت ہے

شاعر تو کوئی خاص نہیں تو مگر احمد
غالب کی طرح شہر میں بدنام بہت ہے

Scroll to Top
Call Now Button